Tuesday, June 28, 2011

الفاظ لازم پلٹتے ہیں۔

یہ دنیا ہے یہاں مختلف لوگ ملتے ہیں
کچھ اپنے کچھ بیگانے سے لگتے ہیں


دشت، بیابان، سنگلاخ راہوں میں ڈھونڈا
منزل دکھانے والے ناخدا کہاں رہتے ہیں


خواب ہے حقیقت ہے عجب منظر ہے
آنکھوں پہ پٹیاں قطاروں میں چلتے ہیں


دل میں کچھ‘ زبان پہ کچھ اور رہتا ہے
بعض شخص بڑی مشکل سے کھلتے ہیں


الفاظ کا استعمال زرا احتیاط سے کرو
ہمیشہ یاد رکھنا سحر یہ لازم پلٹتے ہیں

(سحر آزاد)

الفاظ لازم پلٹتے ہیں۔

یہ دنیا ہے یہاں مختلف لوگ ملتے ہیں
کچھ اپنے کچھ بیگانے سے لگتے ہیں


دشت، بیابان، سنگلاخ راہوں میں ڈھونڈا
منزل دکھانے والے ناخدا کہاں رہتے ہیں


خواب ہے حقیقت ہے عجب منظر ہے
آنکھوں پہ پٹیاں قطاروں میں چلتے ہیں


دل میں کچھ‘ زبان پہ کچھ اور رہتا ہے
بعض شخص بڑی مشکل سے کھلتے ہیں


الفاظ کا استعمال زرا احتیاط سے کرو
ہمیشہ یاد رکھنا سحر یہ لازم پلٹتے ہیں

(سحر آزاد)

Sunday, June 26, 2011

الفاظ کو چھوڑ صورت کو جانتا ہے

الفاظ کو چھوڑ صورت کو جانتا ہے
پھر یہ خود کو مسلمان بھی مانتا ہے

پھول اپنی مہکت کا اعلان نہیں کرتا
وہ معطر ہے یہ سارا جہاں جانتا ہے

تریاق کے دھوکے میں ہےکاروبار زہر
زیر لعن طعن ہے جو اس سے روکتا ہے

محمدﷺنہیں کر تے اپنے دین میں تفریق
ہر’وہ‘ غیرہے جو مسلمانوں کو بانٹتا ہے

چھوڑ سحر پھر سے چالو ہو گئے
یہاں کون ہے جو محمدﷺ کو مانتا ہے

اقبال تیری سوچ کے خریدار کدھر گئے؟

اقبال تیری سوچ کے خریدار کدھر گئے؟
گرگس یہاں موجود ہیں خوددار کدھر گئے؟

شیر کی سرزشت ہے شکار کر کے کھانا
شیر کی سی شان والے سردار کدھر گئے؟

مومن کی شان ہے فقیری میں بھی خودار
یہاں سب منگتے ہیں وہ خوددارکدھر گئے؟

یہ دھرتی ہے تیرے حبیبوں کی یا خدا
تیرے ولی وہ زاہد شب بیدار کدھر گئے؟

سحرتیری تلاش کی سمت غلط ہےشاید
اگرسارے بے عقل ہیں سمجھدار کدھر گئے؟

آزمائش میں استقامت ہمیں پسند نہیں ہے

آزمائش میں استقامت ہمیں پسند نہیں ہے
بےشرم ہیں ندامت ہمیں پسند نہیں ہے

مشقت سے کوئی خاص شغف نہیں رہا
نیت سے محنت ہمیں پسند نہیں ہے

مجبور کو آسرا تو دینے کو تیار رہتے ہیں
مجبور سے محبت ہمیں پسند نہیں ہے

ہر مشکل میں خوب شور مچاسکتے ہیں
بچنے کی مشقت ہمیں پسند نہیں ہے

انگلی ہے تو اٹھاتے ہیں خدا کی طرف بھی
رواج سے بغاوت ہمیں پسند نہیں ہے

محمدﷺ ہیں شفیع تو کیسایہ ڈر ہے سحر
شایدمحمدﷺ کی شفاعت ہمیں پسند نہیں ہے

مشکل راہ کا انجام دشوار ہوجاتا ہے

مشکل راہ کا انجام دشوار ہوجاتا ہے
جب کوئی سچا بے اعتبار ہو جاتا ہے

نئے عنوان پر جرح خوب ہوتی ہے
سب حاصل محنت بیکار ہو جاتا ہے

ریل کے انجن کو دجال بنا دیتے ہیں
دیوانہ ابو موسیٰ* زیر تلوار ہو جاتا ہے

ہمیں معلوم نہیں تو سب جھوٹ ہے
سچ جاننے سے پہلے انکار ہو جاتا ہے

ایسی چال چلتے ہیں مال مفت آتا رہے
ان کا منکر یہاں مکار ہو جاتا ہے

تیری سوچوں کا کوئی علاج نہیں سحر
طبیب بن کے آتا ہے بیمار ہو جاتا ہے
(سحر آزاد)


* ابو موسیٰ وہ شخص تھا۔ جس نے امام مسجد کے روپ میں عیسائی راہبوں کا مسلمانوں کو بہکانے کا منصوبہ سن کر سلطان صلاح الدین ایوبی کو اطلاع دی تھی اور سب نے اس کا مزاح اڑایا تھا۔ حوالے کے لیے دیکھیے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی

مجھے پوری بات کی عادت نہیں رہی

مجھے پوری بات کی عادت نہیں رہی
جذبہ موجود ہے شدت نہیں رہی

اہل عرب کا رعب و دبدبہ کدھر گیا
امارت موجود ہے عظمت نہیں رہی

عشرت سے دوستی ہے اکثریت گنوارہے
ان کی علم سے محبت نہیں رہی

تصدیق کرنا فرض ہے اگر کوئی سمجھے
زمانے میں قائم شرافت نہیں رہی

دین و دنیا کے درمیان ملا جی دیواربنے رہو
اب آپ سےسحر کی عداوت نہیں رہی