کسی جنگل میں بندروں کا ایک غول رہتا تھا اس جنگل میں چونکہ بہت زیادہ تعداد میں پھل وغیرہ اُگتے تھے اس لیے وہ سب بندر بہت اطمینان اور خوشی سے رہتے تھے۔
ایک دن ایسا ہوا کہ ایک سائنسدان اپنی بیٹی کے ساتھ اسی جنگل میں ریسرچ کے لیے آیا۔ خیمہ نصب کرنے کے بعد سائنسدان تو پودوں کے سیمپل اکھٹے کرنے نکل کھڑا ہوا مگر وہ لڑکی اس خیمہ کی تزین و آرائش کے لیے پیچھے رہ گئی۔ اس نے پہلے زمین پر ایک پراناقالین بچھایا۔ پر اس قالین پر بستر لگائے۔خیمے کی درمیانی ٹیک سے برقی لالٹین لٹکائی اور اس کے عین نیچے ایک چھوٹی سی میز اور اس پر سجاوٹی سیبوں سے بھرا ایک پیالہ رکھ دیا۔وہ سیب دیکھنے میں بہت تازہ، خوبصورت اور بڑے لگ رہے تھے۔
تمام بندر درختوں پر بیٹھے ان مصنوعی سیبوں کو لالچ سے دیکھ رہے تھے۔ لڑکی خیمہ کے سامنے کی جگہ صاف کرنے کے لیے زرا باہر نکلی تو ایک بندر نے تیزی سے جھپٹا مارا اور ایک مصنوعی سیب اٹھا لیا اور عین اسی وقت لڑکی کی نظر بھی اس پر پڑ گئی۔ لڑکی نے فوراً بندوق اٹھا کر نشانہ لیا اور فائر داغ دیا۔ مگر تمام بندر اتنی دیر میں وہاں سے بھاگ گئے تھے۔
کافی دیر تک بھاگنے کے بعد تعاقب نہ ہونے کا یقین ہونے پر تمام بندر رک گئے۔ چوربندر نے ہاتھ بلند کرکے سب کو سیب دکھایا۔ سب بندر حیرت سے اس بندر کو دیکھنے لگے اور اس کو خوش قسمت گرداننے لگے کہ اسے ایسا اچھا سیب مل گیا۔ اور کوشش کرنے لگے کہ ایک بار اس مصنوعی سیب کو ہاتھ لگا کر دیکھ سکیں۔
چور بندر نے سب کو جھڑکا اور یہ مصنوعی سیب لے کر ایک درخت کی سب سے اونچی شاخ پر جا بیٹھااور سیب کو کھانے کے لیے اسے منہ میں لے کر دبایا۔ مگریہ مصنوعی سیب سخت پلاسٹ کا بنا ہوا تھا جسے چبانے سے بندر کے دانتوں میں درد ہونے لگا۔ بندر نے دو تین بار اور کوشش کی مگر ہر بار اسے درد ہونے لگتا۔
وہ دن چور بندرنے اسی اونچی شاخ پر بھوکے رہ کر گزارا۔ اگلے دن وہ نیچے اتر آیا۔ دوسرے تمام بندر اسے احترام سے دیکھنے لگے کیونکہ اس وقت بھی اس کے ہاتھ میں وہ مصنوعی سیب موجود تھا۔ دوسرے بندروں سے ملنے والا احترام دیکھ کر اس بندر نے اس سیب پر اپنی پکڑ اور مضبوط کر دی۔ اب دوسرے بندر پھلوں کی تلاش میں نکل گئے اور تیزی سے ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگ لگاتے ہوئے پھل توڑ توڑ کر کھانے لگے۔
چور بندر کے ایک ہاتھ میں چونکہ مصنوعی سیب تھا اس لیے وہ درختوں پر نہیں چڑھ سکا۔ مگر وہ سیب بھی ہاتھ سے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لیے وہ سارا دن بھوکا پیاسا رہا اور یہی سلسلہ اگے کچھ دنوں تک چلتا رہتا۔ دوسرے بندر اس کے ہاتھ میں مصنوعی سیب ہونے کی وجہ سے عزت کرتے مگر اسے کھانے کے لیے کچھ نہیں دیتے۔
بھوک سے بے حال وہ بندر اتنا نڈھال ہو چکا تھا کہ اس کو اپنا آخری وقت نظر آ رہا تھا۔ اس نے ایک بار پھر اس سیب کو کھانے کی کوشش کی مگر اس بار میں نتیجہ مختلف نہ تھا۔ اس کے دانت اس مرتبہ بھی درد کر رہے تھے۔ چور بندر کو اپنی آنکھوں کے سامنے درختوں سے لٹکے ہوئے پھل نظر آ رہے تھے مگراس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ان درختوں پر چڑھ سکتا۔ آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں۔ جان نکلتے ہی اس کی گرفت مصنوعی سیب پر ڈھیلی ہو گئی اور وہ مصنوعی سیب اس کے ہاتھ سے نکل کر لڑکھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
شام کو باقی بندر آئےانہوں نے مرے ہوئے بندر کی لاش پر کچھ آنسو بہائے افسوس کیا اور اس کی لاش کو پتہ سےڈھانپ دیا۔ ابھی وہ اتنا کر ہی رہے تھے کہ ایک دوسرے بندر کو وہی مصنوعی سیب ملا۔ اور اس نے اپنا ہاتھ بلند کر کے سب کو وہ سیب دکھانا شروع کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Sunday, June 26, 2011
پاکستان، قابلیت اور کارکردگی
پاکستان، قابلیت اور کارکردگی
(
سحر آزاد)
پاکستان جنوبی ایشیاء کا ایک ایسا ملک ہے جس کی جغرافیائی اور تاریخی اہمیت سے اقوام عالم میں کسی کو انکار نہیں۔ یہ خطہ پوری زمین کے ایک جغرافیائی، موسمی اورثقافتی ماڈل کی طرح ہے جس میں یورپ کی طرح برف پوش پہاڑ بھی ہیں افریقا کی طرح ہموار میدان بھی۔ جس میں خلیج کی طرف تپتے ہوئے صحرا بھی ہیں اور روس اور نارتھ پول کی طرح منجمد آبادیاں بھی۔ اس میں امریکہ جیسے ٹھنڈے ریتلے میدان بھی ہیں اور دلدلی آتش فشاں بھی۔ اس میں سطح مرتفع کی سختیاں بھی ہیں اور وادیوں کی راحت بھی۔ اس میں نمکین پانی والے بحر ہند کے ساحل بھی ہیں اور پنجند کا میٹھا دریا بھی ہے۔ اس کے پہاڑ معدنیات کے خزانے ہیں اس کے صحرا تیل و گیس کے زخائر سے بھرے پڑے ہیں۔ اس میں نمک کے پہاڑ ہیں تو اس کی مٹی میں سونا ہے۔ اس میں اسلام آباد کی جدت ہے، تو کیلاش کی قدامت بھی ہے، اس میں پنجاب کی روایت ہے تو خیبر پختوانخواہ کی غیرت بھی ہے۔ اس میں بلوچوں کی طاقت ہے تو کشمیریوں کے دلوں کی حدت بھی ہے اور گلگت کے پھولوں کی مہکت بھی ہے۔
اس کے جوان سیاچن جیسے گلئیشرز پر اپنی ہمت کے جوہر دکھا رہے ہیں تو لڑکے تعلیمی میدان میں بین الاقوامی اعزاز حاصل کر کے اپنے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور اس کی بیٹیاں پہاڑ وں کے سروں پر اپنے قدم رکھ چکی ہیں۔
یہ وہ ملک ہے جس کے بارے میں اقبالؒ فرماتے ہیں۔
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
زرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیر ہے ساقی
لیکن۔۔۔۔!
زرخیر ترین زمین اور آبادی کے پچھتر فیصد لوگوں کے زراعت سے متعلق ہونے کے باوجود یہاں پر آٹے کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور گندم، کپاس اور دوسری زرعی اجناس امپورٹ کرنا پڑتی ہیں۔
دنیا میں ڈاکٹر ز اور انجینئرز کی گنتی میں چھٹے نمبر پر ہونے کے باوجود اس ملک کے دیہات میں کوئی ڈاکٹر نہیں ملتا۔ اس سے مملکت پاکستان کے محکمہ صحت کی کامیابی کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ ڈاکٹرز ان سے اتنے ناامید ہیں کہ یا تو وہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں یا انہوں نے اپنے ذاتی کلینک بنا لئے ہیں جن میں اکثر کلینکس میں علاج کی غرض سے پہنچنا ہر بندے کے بس کی بات نہیں۔
اگر ہم اپنے ڈاکٹرز کو اکاموڈیٹ نہیں کریں گے تو ایسا ہی رہے گا۔
اس ملک کے پرانے اور چھوٹے شہر تو خیر بڑے بڑے شہر جیسے کراچی اور لاہور کی بھی یہ حالت ہے کہ زرا سی بارش ہو جائے تو شہر سیلاب کا منظر پیس کر رہا ہوتا ہے۔تو یقیناً انجینئرز پرائیوٹ ہاوسنگ اور بزنس پروپوزلز پر کام کر رہے ہوں گے۔
اگر ہم اپنے انجینئرز کو اکاموڈیٹ نہیں کریں گے تو ایسا ہی رہے گا۔
لاہور دنیا کا سب سے زیادہ کالجوں والا شہر ہے اور اس کے مضافات کے اسکولوں کی دیواریں اور چھت تک نہیں ہے۔ بعض دیہاتی اسکولوں میں اساتذہ گھروں میں بیٹھ کر تنخواہ لے رہے ہیں اور ان کی حاضری نہ ہونے کی وجہ سے اسکول زمینداروں کے قبضوں میں چلے گئے ہیں۔ جہاں نئی نسل کی تربیت ہونا تھی وہاں پر جانور باندھے جا رہے ہیں۔ اس سے پاکستان کے تعلمی بنیادی ڈھانچے اور اس کے احتسابی نظام کا پتہ چلتا ہے۔
اگر احتسابی نظام کمزور یا سرے سے ہو گا ہی نہیں۔ تو ایسا ہی رہے گا۔ بلکہ بگڑتا جائے گا۔
پاکستان دنیا کی ساتویں بڑی آرمی اور ایٹمی طاقت رکھنے ولا ایک بڑا ملک ہے۔ لیکن آج بھی اس کے لیڈروں کے اندر اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ غیروں کی دھمکی کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔ اخلاقی دیوالیہ اور بار بار کے آزمائے سیاسی گیڈروں کو چننے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔
پاکستان اپنے قیام کے ساتھ ہی دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کا اعزاز حاصل کر چکا تھا۔ بابائے قوم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کے ایک اسلامی جمہوری ملک ہونے کی خوشی پوری دنیا کو سنائی تھی۔ لیکن آج 64 سال گزر جانے کے بعد بھی پاکستان میں دو دو آئین چل رہے ہیں۔ ایک پاکستان کا آئین اور ایک مولوی کا آئین۔ اسلامی جمہوریت کہیں غائب ہو گئی اور دعویٰ آ گیا اسلامی نظام نافذ کیا جائے۔ یعنی جو کچھ پہلے چل رہا ہے سب غیر اسلامی ہے۔ اور پھر نکلا فتوے کا نظام۔ گورنمنٹ سے منظوری لیے بغیر ہر محلے میں ایک عدد قاضی القضاء براجمان ہو گیا۔ جس کی سند یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے قاضی کا بیٹا یا بھائی وغیرہ ہے۔ اور دینے لگے فتوے اس کو مار دو وہ کافر ہے۔ اس کو چھوڑ دو وہ مسلمان ہے۔
آج اگر ان سر شوریدہ لوگوں کو روکا نہ گیا تو تباہی کہیں دور نہیں۔
یہ تو کچھ مثالیں ہیں وگرنہ کسی بھی سرکاری محکمے کو اٹھا کر دیکھ لیں۔17 کروڑ قابل ترین اور درد مند دل رکھنے والے نفوس پر مشتمل یہ قوم آج اس بدحالی کا شکار کیوں ہے؟
آج اس کی وجہ میں نہیں بتاؤں گا۔
اس کی وجہ آپ تلاش کریں۔
اورمن الحیث القوم ہم کون کون سی بڑی غلطیاں دہرا رہے ہیں۔ اس کو اپنے اندر تلاشنے کی کوشش کیجئے۔
اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ ان لوگوں کا جن پر تمہارا فضل ہوا۔ ناکہ ان لوگوں کا جن پر تمہارا غضب ہے۔ (آمین)
(
سحر آزاد)
پاکستان جنوبی ایشیاء کا ایک ایسا ملک ہے جس کی جغرافیائی اور تاریخی اہمیت سے اقوام عالم میں کسی کو انکار نہیں۔ یہ خطہ پوری زمین کے ایک جغرافیائی، موسمی اورثقافتی ماڈل کی طرح ہے جس میں یورپ کی طرح برف پوش پہاڑ بھی ہیں افریقا کی طرح ہموار میدان بھی۔ جس میں خلیج کی طرف تپتے ہوئے صحرا بھی ہیں اور روس اور نارتھ پول کی طرح منجمد آبادیاں بھی۔ اس میں امریکہ جیسے ٹھنڈے ریتلے میدان بھی ہیں اور دلدلی آتش فشاں بھی۔ اس میں سطح مرتفع کی سختیاں بھی ہیں اور وادیوں کی راحت بھی۔ اس میں نمکین پانی والے بحر ہند کے ساحل بھی ہیں اور پنجند کا میٹھا دریا بھی ہے۔ اس کے پہاڑ معدنیات کے خزانے ہیں اس کے صحرا تیل و گیس کے زخائر سے بھرے پڑے ہیں۔ اس میں نمک کے پہاڑ ہیں تو اس کی مٹی میں سونا ہے۔ اس میں اسلام آباد کی جدت ہے، تو کیلاش کی قدامت بھی ہے، اس میں پنجاب کی روایت ہے تو خیبر پختوانخواہ کی غیرت بھی ہے۔ اس میں بلوچوں کی طاقت ہے تو کشمیریوں کے دلوں کی حدت بھی ہے اور گلگت کے پھولوں کی مہکت بھی ہے۔
اس کے جوان سیاچن جیسے گلئیشرز پر اپنی ہمت کے جوہر دکھا رہے ہیں تو لڑکے تعلیمی میدان میں بین الاقوامی اعزاز حاصل کر کے اپنے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور اس کی بیٹیاں پہاڑ وں کے سروں پر اپنے قدم رکھ چکی ہیں۔
یہ وہ ملک ہے جس کے بارے میں اقبالؒ فرماتے ہیں۔
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
زرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیر ہے ساقی
لیکن۔۔۔۔!
زرخیر ترین زمین اور آبادی کے پچھتر فیصد لوگوں کے زراعت سے متعلق ہونے کے باوجود یہاں پر آٹے کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور گندم، کپاس اور دوسری زرعی اجناس امپورٹ کرنا پڑتی ہیں۔
دنیا میں ڈاکٹر ز اور انجینئرز کی گنتی میں چھٹے نمبر پر ہونے کے باوجود اس ملک کے دیہات میں کوئی ڈاکٹر نہیں ملتا۔ اس سے مملکت پاکستان کے محکمہ صحت کی کامیابی کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ ڈاکٹرز ان سے اتنے ناامید ہیں کہ یا تو وہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں یا انہوں نے اپنے ذاتی کلینک بنا لئے ہیں جن میں اکثر کلینکس میں علاج کی غرض سے پہنچنا ہر بندے کے بس کی بات نہیں۔
اگر ہم اپنے ڈاکٹرز کو اکاموڈیٹ نہیں کریں گے تو ایسا ہی رہے گا۔
اس ملک کے پرانے اور چھوٹے شہر تو خیر بڑے بڑے شہر جیسے کراچی اور لاہور کی بھی یہ حالت ہے کہ زرا سی بارش ہو جائے تو شہر سیلاب کا منظر پیس کر رہا ہوتا ہے۔تو یقیناً انجینئرز پرائیوٹ ہاوسنگ اور بزنس پروپوزلز پر کام کر رہے ہوں گے۔
اگر ہم اپنے انجینئرز کو اکاموڈیٹ نہیں کریں گے تو ایسا ہی رہے گا۔
لاہور دنیا کا سب سے زیادہ کالجوں والا شہر ہے اور اس کے مضافات کے اسکولوں کی دیواریں اور چھت تک نہیں ہے۔ بعض دیہاتی اسکولوں میں اساتذہ گھروں میں بیٹھ کر تنخواہ لے رہے ہیں اور ان کی حاضری نہ ہونے کی وجہ سے اسکول زمینداروں کے قبضوں میں چلے گئے ہیں۔ جہاں نئی نسل کی تربیت ہونا تھی وہاں پر جانور باندھے جا رہے ہیں۔ اس سے پاکستان کے تعلمی بنیادی ڈھانچے اور اس کے احتسابی نظام کا پتہ چلتا ہے۔
اگر احتسابی نظام کمزور یا سرے سے ہو گا ہی نہیں۔ تو ایسا ہی رہے گا۔ بلکہ بگڑتا جائے گا۔
پاکستان دنیا کی ساتویں بڑی آرمی اور ایٹمی طاقت رکھنے ولا ایک بڑا ملک ہے۔ لیکن آج بھی اس کے لیڈروں کے اندر اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ غیروں کی دھمکی کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔ اخلاقی دیوالیہ اور بار بار کے آزمائے سیاسی گیڈروں کو چننے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔
پاکستان اپنے قیام کے ساتھ ہی دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کا اعزاز حاصل کر چکا تھا۔ بابائے قوم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کے ایک اسلامی جمہوری ملک ہونے کی خوشی پوری دنیا کو سنائی تھی۔ لیکن آج 64 سال گزر جانے کے بعد بھی پاکستان میں دو دو آئین چل رہے ہیں۔ ایک پاکستان کا آئین اور ایک مولوی کا آئین۔ اسلامی جمہوریت کہیں غائب ہو گئی اور دعویٰ آ گیا اسلامی نظام نافذ کیا جائے۔ یعنی جو کچھ پہلے چل رہا ہے سب غیر اسلامی ہے۔ اور پھر نکلا فتوے کا نظام۔ گورنمنٹ سے منظوری لیے بغیر ہر محلے میں ایک عدد قاضی القضاء براجمان ہو گیا۔ جس کی سند یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے قاضی کا بیٹا یا بھائی وغیرہ ہے۔ اور دینے لگے فتوے اس کو مار دو وہ کافر ہے۔ اس کو چھوڑ دو وہ مسلمان ہے۔
آج اگر ان سر شوریدہ لوگوں کو روکا نہ گیا تو تباہی کہیں دور نہیں۔
یہ تو کچھ مثالیں ہیں وگرنہ کسی بھی سرکاری محکمے کو اٹھا کر دیکھ لیں۔17 کروڑ قابل ترین اور درد مند دل رکھنے والے نفوس پر مشتمل یہ قوم آج اس بدحالی کا شکار کیوں ہے؟
آج اس کی وجہ میں نہیں بتاؤں گا۔
اس کی وجہ آپ تلاش کریں۔
اورمن الحیث القوم ہم کون کون سی بڑی غلطیاں دہرا رہے ہیں۔ اس کو اپنے اندر تلاشنے کی کوشش کیجئے۔
اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ ان لوگوں کا جن پر تمہارا فضل ہوا۔ ناکہ ان لوگوں کا جن پر تمہارا غضب ہے۔ (آمین)
لمحہ فراق
لمحہ فراق
آہنی گیٹ سے پہلا قدم باہر رکھا تو اس کے دل کی دھڑکن کی رفتار یک دم تیز، بہت تیز ہو گئی۔ شدعت غم سے اس کا سر چکرایا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا نے لگا وہ اپنا سر پکڑ کر اپنے سینے کی جانب تھوڑا سا جھکا مگر پھر اس نے اپنے سر کو ایک جھٹکا دیا' سیدھا ہوا اور پھر سے پورے قد سے چلنے لگا' بالکل سیدھا، بنا کوئی اور حرکت کیے بس اپنے قدموں کو گھسیٹے ہوئے وہ اس عمارت سے دور جا رہا تھا۔
اس کا دل چیخ چیخ کر اسے رکنے اور اس عمارت پر ایک اور نظر ڈالنے کے لیے مجبور کر رہا تھا۔ مگر وہ گردن اکڑائے سیدھا چلا جا رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا مڑ کر ایک بار ہی دیکھنا قیامت ہو گا۔ مگر درد تھا کہ دل میں بڑھا جا رہا تھا۔ ایک بار صرف ایک بار پھر سے دیکھنے کی طلب اسے ازیت لا متناہی میں مبتلا کر رہی تھی۔
وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے ایک بار پیچھے مڑ کر اس عمارت کی طرف دیکھ لیا تو وہ اپنے ہی فیصلے پر قائم نہیں رہ سکے گا۔ کیا نہیں ملا تھا اسے اس عمارت سے' اور آج وہ سب کو بتا کر' سب کی اجازت لے کر اس عمارت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جا رہا تھا۔
اسے آج بھی وہ دن یاد تھا جب پہلی بار وہ اس عمارت میں آیا تھا اور اس عمارت کے سبھی مکینوں نے کھلے دل اور کھلی بانہوں سے اس کا استقبال کیا تھا۔ اسے بڑھ کر اپنے سینے سے لگایا تھا۔ یہیں پر تو اسے وہ چھوٹے چھوٹے شرارتی سے بھائی بہن ملے تھے جن کے ساتھ مل کر وہ خوب دھماکہ چوکڑی مچایا کرتاتھا اور وہ بڑی بہنیں اور بھائی بھی ملے تھے جن کے رعب میں بھی پیار جھلکتا تھا اور جنہیں وہ بلاوجہ صرف جھڑکیاں کھانے کے لیے اوٹ پٹانگ طریقے سے تنگ کیا کرتا تھا۔آج اسے سب یاد آ رہا تھا۔
اور جب اس عمارت کا کوئی بھی مکین تکلیف میں ہوتا تو کیسے سب اس کی داد رسی کے لیے آگے بڑھتے، دعائیں کی جاتیں، ہمت بندھائی جاتی، سب کو وہ غم ان کا اپنا غم لگا کرتا تھا۔
اور جب کوئی مکین کامیاب ہوتا تو سبھی کو وہ کامیابی ان کی اپنی کامیابی محسوس ہوتی تھی مٹھائیاں اڑائی جاتیں اور جشن منایا جاتا
اوراس دن جب اس نے پہلی بار قلم اُٹھا کر اپنے جزبات کوکاغذ پر ڈھالا اور اپنی پہلی تخلیق ڈرتے ڈرتے سب کو دکھائی تھی تو سب کے چہرے کیسے سچی خوشی سے دمک اٹھے تھے۔ سب نے کتنی تعریف کی تھی۔
اور آج جب اس کو اس دنیا کی رسموں سے بندھ کر کہیں اور جانا تھا تو سب نے کتنے ہی خلوص اور محبت اور دعاؤں سے اس کو الوداع کہا تھا۔
اسے پتہ تھا کہ دروازے کے اس پار' سب اسی کو جاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں کسی کے بھی بظاہر آنسو نہیں نکل رہے مگر ان کو خود کے چہروں پرتو کوئی اختیار نہیں۔ وہ پلٹ کر ان چہروں کو نہیں دیکھ سکتا تھا، وہ تو جس گیٹ سے ابھی گزر کر آیا تھا اسے بھی دوبارہ نہیں دیکھ سکتا تھا۔
بس خود کو قدم قدم گھسیٹتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھا جا رہا تھا۔
زندگی تو پیچھے ہی رہ گئی تھی شاید
مگر وہ آگے ہی آگے بڑھ رہا تھا۔
شاید کسی نئی زندگی کی تلاش میں
آہنی گیٹ سے پہلا قدم باہر رکھا تو اس کے دل کی دھڑکن کی رفتار یک دم تیز، بہت تیز ہو گئی۔ شدعت غم سے اس کا سر چکرایا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا نے لگا وہ اپنا سر پکڑ کر اپنے سینے کی جانب تھوڑا سا جھکا مگر پھر اس نے اپنے سر کو ایک جھٹکا دیا' سیدھا ہوا اور پھر سے پورے قد سے چلنے لگا' بالکل سیدھا، بنا کوئی اور حرکت کیے بس اپنے قدموں کو گھسیٹے ہوئے وہ اس عمارت سے دور جا رہا تھا۔
اس کا دل چیخ چیخ کر اسے رکنے اور اس عمارت پر ایک اور نظر ڈالنے کے لیے مجبور کر رہا تھا۔ مگر وہ گردن اکڑائے سیدھا چلا جا رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا مڑ کر ایک بار ہی دیکھنا قیامت ہو گا۔ مگر درد تھا کہ دل میں بڑھا جا رہا تھا۔ ایک بار صرف ایک بار پھر سے دیکھنے کی طلب اسے ازیت لا متناہی میں مبتلا کر رہی تھی۔
وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے ایک بار پیچھے مڑ کر اس عمارت کی طرف دیکھ لیا تو وہ اپنے ہی فیصلے پر قائم نہیں رہ سکے گا۔ کیا نہیں ملا تھا اسے اس عمارت سے' اور آج وہ سب کو بتا کر' سب کی اجازت لے کر اس عمارت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جا رہا تھا۔
اسے آج بھی وہ دن یاد تھا جب پہلی بار وہ اس عمارت میں آیا تھا اور اس عمارت کے سبھی مکینوں نے کھلے دل اور کھلی بانہوں سے اس کا استقبال کیا تھا۔ اسے بڑھ کر اپنے سینے سے لگایا تھا۔ یہیں پر تو اسے وہ چھوٹے چھوٹے شرارتی سے بھائی بہن ملے تھے جن کے ساتھ مل کر وہ خوب دھماکہ چوکڑی مچایا کرتاتھا اور وہ بڑی بہنیں اور بھائی بھی ملے تھے جن کے رعب میں بھی پیار جھلکتا تھا اور جنہیں وہ بلاوجہ صرف جھڑکیاں کھانے کے لیے اوٹ پٹانگ طریقے سے تنگ کیا کرتا تھا۔آج اسے سب یاد آ رہا تھا۔
اور جب اس عمارت کا کوئی بھی مکین تکلیف میں ہوتا تو کیسے سب اس کی داد رسی کے لیے آگے بڑھتے، دعائیں کی جاتیں، ہمت بندھائی جاتی، سب کو وہ غم ان کا اپنا غم لگا کرتا تھا۔
اور جب کوئی مکین کامیاب ہوتا تو سبھی کو وہ کامیابی ان کی اپنی کامیابی محسوس ہوتی تھی مٹھائیاں اڑائی جاتیں اور جشن منایا جاتا
اوراس دن جب اس نے پہلی بار قلم اُٹھا کر اپنے جزبات کوکاغذ پر ڈھالا اور اپنی پہلی تخلیق ڈرتے ڈرتے سب کو دکھائی تھی تو سب کے چہرے کیسے سچی خوشی سے دمک اٹھے تھے۔ سب نے کتنی تعریف کی تھی۔
اور آج جب اس کو اس دنیا کی رسموں سے بندھ کر کہیں اور جانا تھا تو سب نے کتنے ہی خلوص اور محبت اور دعاؤں سے اس کو الوداع کہا تھا۔
اسے پتہ تھا کہ دروازے کے اس پار' سب اسی کو جاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں کسی کے بھی بظاہر آنسو نہیں نکل رہے مگر ان کو خود کے چہروں پرتو کوئی اختیار نہیں۔ وہ پلٹ کر ان چہروں کو نہیں دیکھ سکتا تھا، وہ تو جس گیٹ سے ابھی گزر کر آیا تھا اسے بھی دوبارہ نہیں دیکھ سکتا تھا۔
بس خود کو قدم قدم گھسیٹتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھا جا رہا تھا۔
زندگی تو پیچھے ہی رہ گئی تھی شاید
مگر وہ آگے ہی آگے بڑھ رہا تھا۔
شاید کسی نئی زندگی کی تلاش میں
بے جی کی تتلیاں
بے جی کی تتلیاں
رات ڈھائی بجے کا عمل ہو گا‘ اندھیرے کمرے میں وہ تنہا سو رہا تھا۔ اچانک اس کے جسم کو ایک زوردار جھٹکا لگا اور وہ تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کی سانسیں بہت تیزی سے چل رہی تھیں۔ پورا جسم اور کپڑے پسینے سے شرابور تھے۔ اس کے چہرے پر حسرت اور ہاتھ ایسے پھیلے ہوئے تھے۔ جیسے وہ کسی کو روک لینا چاہتا ہو۔
..........
’’اٹھو پتروں! بابا جی دروازے پر آنے والے ہیں۔ آج اس کو آٹا نہیں دینا کیا۔ ‘‘بےجی نے مجھے اور میرے چھوٹے بھائی علی کو اٹھاتے ہوئے کہا
’’بے جی آپ ہم دونوں سے ہی آٹا بابا جی کو کیوں دلواتی ہے۔ اور کیا بابا جی کو روز آٹا دینا ضروری ہے۔‘‘ میں نے حسب عادت منہ بگاڑے ہوئے پوچھا۔
بے جی نے کوئی جواب نہ دیا ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے آٹے کا برتن ہمارے ہاتھ میں پکڑا دیا۔
’’ہم بابا جی کو آٹا کیوں دیتے ہیں؟‘‘ علی نے بہت معصومیت سے بے جی کا پلو پکڑ کر کھینچتے ہوئے پوچھا۔
بے جی ہمارے پاس گھنٹوں کے بل زمیں پر بیٹھ گئیں اور ہم دونوں کو اپنی بانہوں میں لیتے ہوئے پیار سے بولیں۔’’ جب ہم اللہ تعالیٰ کے بندوں کی مدد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے تو ہمیں اچھے اچھے انعام دیتا ہے۔‘‘
انعام کی بات سن کر ہم دونوں بہت خوشی خوشی دروازے کی چوکھٹ میں بیٹھ کر باباجی کا انتظار کرنے لگے۔
علی ہمیشہ کی طرح آج بھی بہت پرجوش تھا۔ اسے ہمیشہ سے ہی باباجی کو آٹا دینا بہت اچھا لگتا تھا اس لیے وہ مسکرا رہا تھا اور میں اس کی مسکراہٹیں دیکھ کر ہمیشہ کی طرح اسے گھور رہا تھا۔ لیکن جتنی چھوٹی سی عمر میں وہ تھا اسے اس کی قطعاً کوئی پروا نہیں تھی۔
تھوڑی دیر بعد باباجی گلی کی نکر سے "دعا فقیراں رحم اللہ" کی گردان کرتے ہوئے نمودار ہوئے۔ میں نے بابا جی کے منہ سے کبھی کوئی دوسرے الفاظ نہیں سنے تھے۔
وہ ہمارے پاس پہنچے ہمارے سروں پر ہاتھ پھیرنے کے بعد اپنے ہاتھ ہوا میں دعا کے انداز میں بلند کیے۔ پھرہمارے ہاتھوں سے برتن لے کر آٹا اپنے جھولے میں ڈالا اور چلے گئے۔
مجھے یہ سب بہت اچھا لگتا تھا مگر ایک سوال رہ جاتا تھا کہ "بے جی اپنے لیے انعام کیوں نہیں چاہتی۔ ہمیشہ ہمارے ہی نام انعام کیوں کر دیتی ہیں؟
..........
میں اس دن بہت ہی خوش تھا۔ کیونکہ میں پہلی بار ابا جی کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں جا رہا تھا۔ حالانکہ میں بار بار ابا جی سے ضد کرتا تھا کہ مجھے بھی مسجد میں لے جائیں۔ مگر وہ ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ جب تم سات سال کے ہو جاؤ تب لے کے جاؤں گا۔ میرے سب دوست نماز پڑھنے جاتے تھے وہ مجھ پر ہنستے تھے کہ تم نماز پڑھنے نہیں جاتے۔
آج میں سات برس کا ہو گیا تھا اس لیے میں بہت خوش تھا کہ آج سے میں بھی نماز پڑھنے مسجد جاؤں گا ابا جی مجھے مسجد جانے سے نہیں روکیں گے اور کوئی بھی مجھ پر نہیں ہنسے گا۔
بے جی نے فجر سے تھوڑا پہلے مجھ کو نہلایا۔ نئے کپڑے پہنائے میرے بال بنائے۔ اس دوران میں باربار ابا جی کو دیکھ رہا تھا کہ کہیں آج بھی وہ مجھے چھوڑ کراکیلے ہی مسجد نہ چلے جائیں۔
جوں ہی بے جی نے میرے بال بنانے سے فارغ ہوئیں میں بھاگ کر ابا جی کے پاس چلا گیا۔ ان کی انگلی پکڑ کر مسجد کی جانب روانہ ہو گیا۔
گھر سے تھوڑا ہی دور نکلے ہوں گئے کہ اچانک ابا جی کی نظر میرے سر پر پڑی تو وہ رک گئے اور بولے "تمہاری ٹوپی کدھر ہے؟ لگتا ہے گھر بھول آئے ہو۔ جاؤ بھاگ کر پہن کر آ جاؤ اتنی دیر تک میں آہستہ آہستہ مسجد کی طرف چلتا ہوں۔"
میں بھاگ کر گھر میں داخل ہوا اور سیدھا اپنی ماں کے کمرے کی طرف بڑھا۔ وہ مصلے پر بیٹھی ہوئی تھیں ان کے ہاتھ دعا کے لیے بلند تھے اور وہ بہت عاجزی سے اللہ تعالیٰ سے درخواست کر رہی تھیں کہ
’’یااللہ! میراپتر بہت چھوٹا ہے۔ ابھی وہ بہت نادان ہے۔ اسے نہیں پتہ کہ تیرا رتبہ کیا ہے۔ تمہارے آگے کیسے جھکتے ہیں۔ یااللہ اسے تمہارے گھر میں اٹھنے بیٹھے کا بھی پتہ نہیں ہے۔ اگر اس سے کوئی بے ادبی، کوئی غلطی، کوئی کوتاہی ہو جائے تو اسے معاف کر دینا۔ اس کے الفاظ کو درگزر کرنا۔ تم سے بہتر درگزر کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ تم سے بہتر درگزر کرنے والا کوئی نہیں ہے۔‘‘
سائیڈ ٹیبل پر میری ٹوپی پڑی تھی میں نے وہ اُٹھائی اور جلدی سے بھاگ کر بابا کے پاس پہنچ گیا۔
لیکن میرے زہن میں ایک الجھن پیدا ہو چکی تھی۔ مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں تو نماز پڑھنے جا رہا ہوں۔ ایک اچھا کام کرنے جا رہا ہوں۔ تو بے جی کس اتنی ڈری ہوئی کیوں ہے۔
..........
میں نے بہت زور سے دروازہ بند کیا۔ اپنا بستہ کندھوں سے اتار کر زمین پر دے مارا۔ اور بہت غصے سے بڑبڑانے لگا۔
بے جی تیزی سے باہر آئی وہ میرا غصے سے سرخ منہ دیکھ کر پریشانی سے پوچھا۔
’’کیا ہوا پتر! سب خیریت ہے ناں۔ اتنا غصہ کس پر آ رہا ہے۔‘‘
’’بے جی۔ وہ شمعوں میرے ہاتھوں سے ماری جائے گی۔‘‘ میں نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا
’’اب کیا' کر دیا اس بیچاری نے کہ تم اسے مار ہی ڈالنا چاہتے ہو۔‘‘ بے جی نے اپنی مسکراہٹ دبا کر کہا۔
’’آج پھر وہ پانی کا گلاس لیے دروازے پر کھڑی تھی۔ کہہ رہی تھی ٹھنڈا پانی پی لو کتنی گرمی ہے۔ اور وہ کمبخبت کاشی وہ بھی میرے ساتھ تھے میرے‘ ہنس کر کہنے لگا کہ پسینہ تو میرا بھی نکل رہا ہے مجھے تو نے کبھی پانی نہیں پوچھا۔‘‘
میں سانس رک کر بے جی کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا رہی تھی۔
" اب اس کاشی نے سب کو بتا کر میرا مزاق اڑوانا ہے اور آپ مسکرا رہی ہیں۔اس شموں بی بی کو روک دیں ورنہ میرے ہاتھوں ضرور ماری جائے گی۔‘‘
’’ویسے پتر! کڑی ہے بہت سونی۔ تمہارے بابا سے بات کروں‘‘ بے جی نے میری ساری بات نظر انداز کر کہ کہا تو میرا رنگ اُڑ گیا کہ کہیں بے جی سچ میں بابا کوبتا دیا تو۔
’’ناں بے جی! ایسا سوچیے گا بھی مت۔‘‘میری آواز بہت سخت اور انداز بے حد بے لچک تھا۔
بے جی میری ہر حرکت اور ہر انداز کو سمجھتی تھی۔ میری بات سن کر اچانک انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا تے ہوئے کہا۔
’’پتر اب تم میڑک میں ہو۔ بہت سمجھدار ہو۔ میں آج جو بھی تمہیں کہوں اسے یاد رکھنا۔ چاہیے آج یہ بات تمہیں سمجھ آئے یا نہ آئے۔ مگر اسے یاد ضرور رکھنا۔ ایک دن یہ تمہیں سمجھ آ جائے گی۔
یہ جو لڑکیاں ہوتیں ہیں ناں۔ یہ بالکل تتلیوں کی طرح ہوتی ہے۔ جس ہتھیلی پر بیٹھ جاتی ہیں اس ہتھیلی کو اپنے سارے رنگوں ساری خوشیوں سے خوبصورت بنا دیتی ہیں۔ پھر ایک ہتھیلی میں بیٹھنے کے بعد اگر ان کو اس ہتھیلی سے علیحدہ کر دیا جائے تو وہاں سے یہ بے رنگ اور بے پر ہو اٹھتی ہے۔ اور دوسری بار رنگ بھرے جانے اور پر نکلنے میں ان کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔
کوشش کرنا کہ کبھی بھی تمہاری وجہ سے کسی تتلی دوبارہ رنگ بھرنے اور دوبارہ پر نکالنے کے مجبور نہ ہونا پڑے۔
میری بات یاد رکھو گے ناں۔‘‘
پتہ نہیں بے جی کی آواز میں ایسا کیا تھا کہ فوراً میرے منہ سے نکلا۔’’بے جی۔ میں کبھی آپ کی یہ بات نہیں بھولوں گا۔‘‘
میری سوچ پھر ایک نقطے پر اٹک گئی تھی کہ "بھلا میں کیسے کسی کے رنگوں اور پروں کو بچا سکتا ہوں۔"
..........
میڑک فائنل امتحانات کا انگلش کا پہلا پرچہ دے کر گھر آیا تھا۔ پرچہ بہت اچھا ہوا تھا اس لیے میں بہت خوش تھا۔
بے جی نے میرا فیورٹ تازہ کھانا روٹی اور بنڈی بنا کر مجھے دی۔ میں نے بڑے مزے لے لے کر کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد بے جی بولیں کہ
"میری طبیعت کچھ خراب لگ رہی ہے چلو دوائی لے کر آتے ہیں"
ڈاکٹر کا کلینک چونکہ کافی فاصلے پر تھا اس لیے میں بھاگ کر تانگہ لے آیا۔ ہم دونوں تانگہ پر سوار ہو کر ڈاکٹر کے پاس پہنچے۔
ڈاکٹر کے پاس ایک مریض پہلے سے موجود تھا۔ اس لیے ہم ویٹنگ روم میں بیٹھ گئے۔
بے جی نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ اچانک انہوں نے میرے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کر دی۔ میں نے چونک کر ان کی طرف دیکھا ان کا جسم کانپا شروع ہو گیا تھا۔ میں نے ڈاکٹر کو آواز دی ڈاکٹر فوراً آ گیا۔ انہیں دو ٹیکے لگائے۔
بے جی نے میری طرف دیکھ کر اکھڑے اکھڑے لہجے میں کہا کہ "رونا نہیں۔ پتر! لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ " بے جی چلی گئی تھی۔ اپنے سوہنے رب کے پاس۔
..........
مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرے بالوں میں اپنا ہاتھ پھیر رہا ہے یا احساس ایسا پر لطف تھا کہ میرا دل چاہ رہا تھا کہ یہ احساس کبھی بھی ختم نہ ہو۔
میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو بے جی میرے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ مجھے آنکھیں کھولتا دیکھ کر مسکرا دیں۔
"کیوں پتر! اپنی بے جی کا کہا سمجھ میں نہیں آ رہا۔"
’’بے جی۔ سمجھ تو گیا ہوں مگرلوگ تو کچھ اور ہی کہتے ہیں۔‘‘
’’کیا کہتے ہیں لوگ؟" بے جی کی مسکراہٹ اور واضع ہو گئی تھیں۔
’’وہ کہتیں ہیں کہ شادی سے پہلے دلی لگواؤ، محبت ایک اچھی چیز ہے جس سے تتلیوں کے رنگوں اور پروں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ تتلیاں بہت سخت جان ہوتی ہیں۔ اپنے رنگوں کو سنھبال سنھبال کر اور پروں کو حفاظت سے رکھتیں ہیں۔ وہ ہتھیلیوں کے گرد تو چکر لگاتی ہیں مگر ان ہتھیلیوں پر بنا مضبوط تعلق بیٹھتی نہیں ہیں۔ اور اگر کچھ رنگ اتر بھی جائے کچھ تکلیف برداشت بھی کر لیتیں ہیں۔‘‘
’’پتر! فیصلہ تو تم کو کرنا ہے۔ بس اتنا یاد رکھا کہ ان تتلیاں کے رنگ کا ایک قطرہ بھی ارزاں نہیں ہوتا۔ اب تو سو جاؤ میں چلتی ہوں۔" بے جی نے اٹھ کر جاتے ہوئے کہا
"بے جی۔ پھر سے مت جائیں۔ مجھے چھوڑ کر مت جائیں۔ بے جی، بے جی رکیں" میں نے بے اختیار ان کو روکنے کی کوشش کی مگر میں اپنی جگہ سے ہل نہیں سکا۔
’’بے جی نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور کہا۔ میں رک نہیں سکتی۔ مگر تمہیں اپنا وعدہ تو یاد ہے ناں۔
کسی بھی تتلی کے پر اور رنگ اترنے کا زمہ دار تم کبھی نہیں بنو گے۔‘‘
..........
ختم شد
رات ڈھائی بجے کا عمل ہو گا‘ اندھیرے کمرے میں وہ تنہا سو رہا تھا۔ اچانک اس کے جسم کو ایک زوردار جھٹکا لگا اور وہ تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کی سانسیں بہت تیزی سے چل رہی تھیں۔ پورا جسم اور کپڑے پسینے سے شرابور تھے۔ اس کے چہرے پر حسرت اور ہاتھ ایسے پھیلے ہوئے تھے۔ جیسے وہ کسی کو روک لینا چاہتا ہو۔
..........
’’اٹھو پتروں! بابا جی دروازے پر آنے والے ہیں۔ آج اس کو آٹا نہیں دینا کیا۔ ‘‘بےجی نے مجھے اور میرے چھوٹے بھائی علی کو اٹھاتے ہوئے کہا
’’بے جی آپ ہم دونوں سے ہی آٹا بابا جی کو کیوں دلواتی ہے۔ اور کیا بابا جی کو روز آٹا دینا ضروری ہے۔‘‘ میں نے حسب عادت منہ بگاڑے ہوئے پوچھا۔
بے جی نے کوئی جواب نہ دیا ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے آٹے کا برتن ہمارے ہاتھ میں پکڑا دیا۔
’’ہم بابا جی کو آٹا کیوں دیتے ہیں؟‘‘ علی نے بہت معصومیت سے بے جی کا پلو پکڑ کر کھینچتے ہوئے پوچھا۔
بے جی ہمارے پاس گھنٹوں کے بل زمیں پر بیٹھ گئیں اور ہم دونوں کو اپنی بانہوں میں لیتے ہوئے پیار سے بولیں۔’’ جب ہم اللہ تعالیٰ کے بندوں کی مدد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے تو ہمیں اچھے اچھے انعام دیتا ہے۔‘‘
انعام کی بات سن کر ہم دونوں بہت خوشی خوشی دروازے کی چوکھٹ میں بیٹھ کر باباجی کا انتظار کرنے لگے۔
علی ہمیشہ کی طرح آج بھی بہت پرجوش تھا۔ اسے ہمیشہ سے ہی باباجی کو آٹا دینا بہت اچھا لگتا تھا اس لیے وہ مسکرا رہا تھا اور میں اس کی مسکراہٹیں دیکھ کر ہمیشہ کی طرح اسے گھور رہا تھا۔ لیکن جتنی چھوٹی سی عمر میں وہ تھا اسے اس کی قطعاً کوئی پروا نہیں تھی۔
تھوڑی دیر بعد باباجی گلی کی نکر سے "دعا فقیراں رحم اللہ" کی گردان کرتے ہوئے نمودار ہوئے۔ میں نے بابا جی کے منہ سے کبھی کوئی دوسرے الفاظ نہیں سنے تھے۔
وہ ہمارے پاس پہنچے ہمارے سروں پر ہاتھ پھیرنے کے بعد اپنے ہاتھ ہوا میں دعا کے انداز میں بلند کیے۔ پھرہمارے ہاتھوں سے برتن لے کر آٹا اپنے جھولے میں ڈالا اور چلے گئے۔
مجھے یہ سب بہت اچھا لگتا تھا مگر ایک سوال رہ جاتا تھا کہ "بے جی اپنے لیے انعام کیوں نہیں چاہتی۔ ہمیشہ ہمارے ہی نام انعام کیوں کر دیتی ہیں؟
..........
میں اس دن بہت ہی خوش تھا۔ کیونکہ میں پہلی بار ابا جی کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں جا رہا تھا۔ حالانکہ میں بار بار ابا جی سے ضد کرتا تھا کہ مجھے بھی مسجد میں لے جائیں۔ مگر وہ ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ جب تم سات سال کے ہو جاؤ تب لے کے جاؤں گا۔ میرے سب دوست نماز پڑھنے جاتے تھے وہ مجھ پر ہنستے تھے کہ تم نماز پڑھنے نہیں جاتے۔
آج میں سات برس کا ہو گیا تھا اس لیے میں بہت خوش تھا کہ آج سے میں بھی نماز پڑھنے مسجد جاؤں گا ابا جی مجھے مسجد جانے سے نہیں روکیں گے اور کوئی بھی مجھ پر نہیں ہنسے گا۔
بے جی نے فجر سے تھوڑا پہلے مجھ کو نہلایا۔ نئے کپڑے پہنائے میرے بال بنائے۔ اس دوران میں باربار ابا جی کو دیکھ رہا تھا کہ کہیں آج بھی وہ مجھے چھوڑ کراکیلے ہی مسجد نہ چلے جائیں۔
جوں ہی بے جی نے میرے بال بنانے سے فارغ ہوئیں میں بھاگ کر ابا جی کے پاس چلا گیا۔ ان کی انگلی پکڑ کر مسجد کی جانب روانہ ہو گیا۔
گھر سے تھوڑا ہی دور نکلے ہوں گئے کہ اچانک ابا جی کی نظر میرے سر پر پڑی تو وہ رک گئے اور بولے "تمہاری ٹوپی کدھر ہے؟ لگتا ہے گھر بھول آئے ہو۔ جاؤ بھاگ کر پہن کر آ جاؤ اتنی دیر تک میں آہستہ آہستہ مسجد کی طرف چلتا ہوں۔"
میں بھاگ کر گھر میں داخل ہوا اور سیدھا اپنی ماں کے کمرے کی طرف بڑھا۔ وہ مصلے پر بیٹھی ہوئی تھیں ان کے ہاتھ دعا کے لیے بلند تھے اور وہ بہت عاجزی سے اللہ تعالیٰ سے درخواست کر رہی تھیں کہ
’’یااللہ! میراپتر بہت چھوٹا ہے۔ ابھی وہ بہت نادان ہے۔ اسے نہیں پتہ کہ تیرا رتبہ کیا ہے۔ تمہارے آگے کیسے جھکتے ہیں۔ یااللہ اسے تمہارے گھر میں اٹھنے بیٹھے کا بھی پتہ نہیں ہے۔ اگر اس سے کوئی بے ادبی، کوئی غلطی، کوئی کوتاہی ہو جائے تو اسے معاف کر دینا۔ اس کے الفاظ کو درگزر کرنا۔ تم سے بہتر درگزر کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ تم سے بہتر درگزر کرنے والا کوئی نہیں ہے۔‘‘
سائیڈ ٹیبل پر میری ٹوپی پڑی تھی میں نے وہ اُٹھائی اور جلدی سے بھاگ کر بابا کے پاس پہنچ گیا۔
لیکن میرے زہن میں ایک الجھن پیدا ہو چکی تھی۔ مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں تو نماز پڑھنے جا رہا ہوں۔ ایک اچھا کام کرنے جا رہا ہوں۔ تو بے جی کس اتنی ڈری ہوئی کیوں ہے۔
..........
میں نے بہت زور سے دروازہ بند کیا۔ اپنا بستہ کندھوں سے اتار کر زمین پر دے مارا۔ اور بہت غصے سے بڑبڑانے لگا۔
بے جی تیزی سے باہر آئی وہ میرا غصے سے سرخ منہ دیکھ کر پریشانی سے پوچھا۔
’’کیا ہوا پتر! سب خیریت ہے ناں۔ اتنا غصہ کس پر آ رہا ہے۔‘‘
’’بے جی۔ وہ شمعوں میرے ہاتھوں سے ماری جائے گی۔‘‘ میں نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا
’’اب کیا' کر دیا اس بیچاری نے کہ تم اسے مار ہی ڈالنا چاہتے ہو۔‘‘ بے جی نے اپنی مسکراہٹ دبا کر کہا۔
’’آج پھر وہ پانی کا گلاس لیے دروازے پر کھڑی تھی۔ کہہ رہی تھی ٹھنڈا پانی پی لو کتنی گرمی ہے۔ اور وہ کمبخبت کاشی وہ بھی میرے ساتھ تھے میرے‘ ہنس کر کہنے لگا کہ پسینہ تو میرا بھی نکل رہا ہے مجھے تو نے کبھی پانی نہیں پوچھا۔‘‘
میں سانس رک کر بے جی کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا رہی تھی۔
" اب اس کاشی نے سب کو بتا کر میرا مزاق اڑوانا ہے اور آپ مسکرا رہی ہیں۔اس شموں بی بی کو روک دیں ورنہ میرے ہاتھوں ضرور ماری جائے گی۔‘‘
’’ویسے پتر! کڑی ہے بہت سونی۔ تمہارے بابا سے بات کروں‘‘ بے جی نے میری ساری بات نظر انداز کر کہ کہا تو میرا رنگ اُڑ گیا کہ کہیں بے جی سچ میں بابا کوبتا دیا تو۔
’’ناں بے جی! ایسا سوچیے گا بھی مت۔‘‘میری آواز بہت سخت اور انداز بے حد بے لچک تھا۔
بے جی میری ہر حرکت اور ہر انداز کو سمجھتی تھی۔ میری بات سن کر اچانک انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا تے ہوئے کہا۔
’’پتر اب تم میڑک میں ہو۔ بہت سمجھدار ہو۔ میں آج جو بھی تمہیں کہوں اسے یاد رکھنا۔ چاہیے آج یہ بات تمہیں سمجھ آئے یا نہ آئے۔ مگر اسے یاد ضرور رکھنا۔ ایک دن یہ تمہیں سمجھ آ جائے گی۔
یہ جو لڑکیاں ہوتیں ہیں ناں۔ یہ بالکل تتلیوں کی طرح ہوتی ہے۔ جس ہتھیلی پر بیٹھ جاتی ہیں اس ہتھیلی کو اپنے سارے رنگوں ساری خوشیوں سے خوبصورت بنا دیتی ہیں۔ پھر ایک ہتھیلی میں بیٹھنے کے بعد اگر ان کو اس ہتھیلی سے علیحدہ کر دیا جائے تو وہاں سے یہ بے رنگ اور بے پر ہو اٹھتی ہے۔ اور دوسری بار رنگ بھرے جانے اور پر نکلنے میں ان کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔
کوشش کرنا کہ کبھی بھی تمہاری وجہ سے کسی تتلی دوبارہ رنگ بھرنے اور دوبارہ پر نکالنے کے مجبور نہ ہونا پڑے۔
میری بات یاد رکھو گے ناں۔‘‘
پتہ نہیں بے جی کی آواز میں ایسا کیا تھا کہ فوراً میرے منہ سے نکلا۔’’بے جی۔ میں کبھی آپ کی یہ بات نہیں بھولوں گا۔‘‘
میری سوچ پھر ایک نقطے پر اٹک گئی تھی کہ "بھلا میں کیسے کسی کے رنگوں اور پروں کو بچا سکتا ہوں۔"
..........
میڑک فائنل امتحانات کا انگلش کا پہلا پرچہ دے کر گھر آیا تھا۔ پرچہ بہت اچھا ہوا تھا اس لیے میں بہت خوش تھا۔
بے جی نے میرا فیورٹ تازہ کھانا روٹی اور بنڈی بنا کر مجھے دی۔ میں نے بڑے مزے لے لے کر کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد بے جی بولیں کہ
"میری طبیعت کچھ خراب لگ رہی ہے چلو دوائی لے کر آتے ہیں"
ڈاکٹر کا کلینک چونکہ کافی فاصلے پر تھا اس لیے میں بھاگ کر تانگہ لے آیا۔ ہم دونوں تانگہ پر سوار ہو کر ڈاکٹر کے پاس پہنچے۔
ڈاکٹر کے پاس ایک مریض پہلے سے موجود تھا۔ اس لیے ہم ویٹنگ روم میں بیٹھ گئے۔
بے جی نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ اچانک انہوں نے میرے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کر دی۔ میں نے چونک کر ان کی طرف دیکھا ان کا جسم کانپا شروع ہو گیا تھا۔ میں نے ڈاکٹر کو آواز دی ڈاکٹر فوراً آ گیا۔ انہیں دو ٹیکے لگائے۔
بے جی نے میری طرف دیکھ کر اکھڑے اکھڑے لہجے میں کہا کہ "رونا نہیں۔ پتر! لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ " بے جی چلی گئی تھی۔ اپنے سوہنے رب کے پاس۔
..........
مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرے بالوں میں اپنا ہاتھ پھیر رہا ہے یا احساس ایسا پر لطف تھا کہ میرا دل چاہ رہا تھا کہ یہ احساس کبھی بھی ختم نہ ہو۔
میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو بے جی میرے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ مجھے آنکھیں کھولتا دیکھ کر مسکرا دیں۔
"کیوں پتر! اپنی بے جی کا کہا سمجھ میں نہیں آ رہا۔"
’’بے جی۔ سمجھ تو گیا ہوں مگرلوگ تو کچھ اور ہی کہتے ہیں۔‘‘
’’کیا کہتے ہیں لوگ؟" بے جی کی مسکراہٹ اور واضع ہو گئی تھیں۔
’’وہ کہتیں ہیں کہ شادی سے پہلے دلی لگواؤ، محبت ایک اچھی چیز ہے جس سے تتلیوں کے رنگوں اور پروں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ تتلیاں بہت سخت جان ہوتی ہیں۔ اپنے رنگوں کو سنھبال سنھبال کر اور پروں کو حفاظت سے رکھتیں ہیں۔ وہ ہتھیلیوں کے گرد تو چکر لگاتی ہیں مگر ان ہتھیلیوں پر بنا مضبوط تعلق بیٹھتی نہیں ہیں۔ اور اگر کچھ رنگ اتر بھی جائے کچھ تکلیف برداشت بھی کر لیتیں ہیں۔‘‘
’’پتر! فیصلہ تو تم کو کرنا ہے۔ بس اتنا یاد رکھا کہ ان تتلیاں کے رنگ کا ایک قطرہ بھی ارزاں نہیں ہوتا۔ اب تو سو جاؤ میں چلتی ہوں۔" بے جی نے اٹھ کر جاتے ہوئے کہا
"بے جی۔ پھر سے مت جائیں۔ مجھے چھوڑ کر مت جائیں۔ بے جی، بے جی رکیں" میں نے بے اختیار ان کو روکنے کی کوشش کی مگر میں اپنی جگہ سے ہل نہیں سکا۔
’’بے جی نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور کہا۔ میں رک نہیں سکتی۔ مگر تمہیں اپنا وعدہ تو یاد ہے ناں۔
کسی بھی تتلی کے پر اور رنگ اترنے کا زمہ دار تم کبھی نہیں بنو گے۔‘‘
..........
ختم شد
بلا عنوان
بلا عنوان
عجیب ہونقوں کی طرح بغیر کچھ سوچے سمجھے میں آگے ہی آگے بڑھا جا رہا تھا کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کہاں نکل آیا ہوں۔ گلیاں اور سڑکیں تو اپنی ہی جیسی ہیں مٹی کی خوشبو بھی بالکل اپنے دیس کی ہی ہے۔ مگر لوگ! لوگوں کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی بہت پرائے پرائے لگ رہے تھے۔
میں کسی سے بھی بات کیے بغیر آگئے بڑھتا جا رہا تھا کہ اچانک ایک موڑپر لوگوں کا جم غفیر دیکھا۔ ایک شخص تھا عجیب سی وضع اختیار کیے ہوئے لوگوں کی طرف حقارت کی نظر سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں اور چہرے سے نفرت نظر آ رہی تھی اس کے الفاظ مجھے سمجھ نہیں آ رہے تھے مگر وہ شاید کسی کو ختم کر دینے کی بات کر رہا تھا اچانک میرا سر مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تمام لوگوں کے ہونٹ مقفل ہیں اور وہ بالکل مشینی انداز میں سر کو ہلائے جا رہے ہیں۔
میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے پکارنے لگا،" میں جاننا چاہتا ہوں، میں جاننا چاہتا ہوں۔" وہ سب لوگ اٹھ کر مجھ پر ٹوٹ پڑے مجھے مارتے ہوئے میری طرف منہ کر کے الگ الگ بولیاں بولنے لگے کوئی کہہ رہا تھا۔"ارے۔ یہ تو بدتمیز ہے۔""یہ بد اخلاق شخص ہے۔" اسے پتہ ہی نہیں اس شہر میں لوگ سوال نہیں کرتے' اس کی جرات کیسے ہوئی سوال کرنے کی اور وہ بھی اتنے بڑے شخص سے' اس کو ہر لفظ کے ساتھ لپٹی خوشبو محسوس نہیں ہوتی یقیناً یہ خارجی، منافق یا منکر ہے اسے نکال دو اسے کوڑے مارو۔
میں اپنے زخموں کو سہلاتا حیرت سے سب کو دیکھے جا رہا تھا۔ اور یہ سوچ بار بار میرے زہن میں آ رہی تھی کہ میں نے غلط کیا کہا۔ اس شہر میں سوال پوچھنا جرم کیوں ہو گیا۔
کیا اس شہر کے لوگ علم سے بیزار ہوں گے ہیں کہ وہ سوال ہی نہیں پوچھتے۔اور کیا وعدہ کے ایفاء کا وقت قریب آ گیا ہے اور علم اٹھایا جا رہا ہے۔
عجیب ہونقوں کی طرح بغیر کچھ سوچے سمجھے میں آگے ہی آگے بڑھا جا رہا تھا کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کہاں نکل آیا ہوں۔ گلیاں اور سڑکیں تو اپنی ہی جیسی ہیں مٹی کی خوشبو بھی بالکل اپنے دیس کی ہی ہے۔ مگر لوگ! لوگوں کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی بہت پرائے پرائے لگ رہے تھے۔
میں کسی سے بھی بات کیے بغیر آگئے بڑھتا جا رہا تھا کہ اچانک ایک موڑپر لوگوں کا جم غفیر دیکھا۔ ایک شخص تھا عجیب سی وضع اختیار کیے ہوئے لوگوں کی طرف حقارت کی نظر سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں اور چہرے سے نفرت نظر آ رہی تھی اس کے الفاظ مجھے سمجھ نہیں آ رہے تھے مگر وہ شاید کسی کو ختم کر دینے کی بات کر رہا تھا اچانک میرا سر مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تمام لوگوں کے ہونٹ مقفل ہیں اور وہ بالکل مشینی انداز میں سر کو ہلائے جا رہے ہیں۔
میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے پکارنے لگا،" میں جاننا چاہتا ہوں، میں جاننا چاہتا ہوں۔" وہ سب لوگ اٹھ کر مجھ پر ٹوٹ پڑے مجھے مارتے ہوئے میری طرف منہ کر کے الگ الگ بولیاں بولنے لگے کوئی کہہ رہا تھا۔"ارے۔ یہ تو بدتمیز ہے۔""یہ بد اخلاق شخص ہے۔" اسے پتہ ہی نہیں اس شہر میں لوگ سوال نہیں کرتے' اس کی جرات کیسے ہوئی سوال کرنے کی اور وہ بھی اتنے بڑے شخص سے' اس کو ہر لفظ کے ساتھ لپٹی خوشبو محسوس نہیں ہوتی یقیناً یہ خارجی، منافق یا منکر ہے اسے نکال دو اسے کوڑے مارو۔
میں اپنے زخموں کو سہلاتا حیرت سے سب کو دیکھے جا رہا تھا۔ اور یہ سوچ بار بار میرے زہن میں آ رہی تھی کہ میں نے غلط کیا کہا۔ اس شہر میں سوال پوچھنا جرم کیوں ہو گیا۔
کیا اس شہر کے لوگ علم سے بیزار ہوں گے ہیں کہ وہ سوال ہی نہیں پوچھتے۔اور کیا وعدہ کے ایفاء کا وقت قریب آ گیا ہے اور علم اٹھایا جا رہا ہے۔
مسلمان ہی ٹارگٹ کیوں؟؟؟
مسلمان ہی ٹارگٹ کیوں؟؟؟
دنیا کے ہر مذہب کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو ایک چیز جس کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ وہ چیز ہے ’’غیرت‘‘۔ یہاں تک کے ہندوازم کی سب سے زیادہ مذہبی مانی جانے والیں کتابیں پوران، مہا بھارت اور رامائن کا بنیادی تعلیمی پہلو غیرت ہی ہے۔ مہا بھارت کے مطابق تاریخ انسانی کی سب سے بڑی جنگ جس میں آسمان سے خود دیوتاؤں نےنازل ہو کر حصہ لیا وہ بھی غیرت کی ہی جنگ تھی۔ اور رامائن میں ہندو ازم کے دیوتا وشنو کا اوتار رام اور اس کا بھائی لکشمن اپنی عزت کو بچانے کی خاطر بڑی طویل جدو جہد کرتے ہیں۔ یعنی ہندوازم میں ’’غیرت‘‘ کی اہمیت واضع ہے۔ اور موجودہ ہندوستان میں ہر سال مختلف مذاہب کی ہزاروں عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ جن میں سب سے زیادہ تعداد ہندو اور پھر سکھ عورتوں کی ہوتی ہے۔
یورپ اور امریکہ میں ہرچو تھی عورت کو بے وفائی یا ارگومنٹ کی وجہ سے اپنے شوہر یا بوائے فرینڈ کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے(وائس آف امریکہ۔جیو نیوز)جن میں بعض اوقات عورتیں مر بھی جاتی ہیں۔
دنیا میں یہ سب ہوتا ہے اور اس کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو کہ اس مسئلہ کا حق ہے۔ لیکن اگر کہیں کسی مسلمان ملک میں ایسا کوئی ایک آدھ کیس نظر آ جائے تو تمام کافر ملک مسلمانوں کے خلاف اکٹھے ہو کر ایک میڈیا مہم چلا دیتے ہیں۔
کہیں مسلمانوں کے مظلام کے پمفلٹ چھپوائے جاتے ہیں۔ کہیں اسکولوں میں بچوں کو من گھڑت قصے سنائے جاتے ہیں۔ نیوز چینلز پر ٹاک شو کیے جاتے ہیں۔ اور مسلمانوں کے عورتوں پر مظالم کی فلمیں بنائی جاتی ہے۔اور اس میں پوچھا جاتا ہے کہ ‘‘اپنی لڑکی کو تم نے مار دیا۔ بتاؤ تمہاری غیرت کہاں ہے‘‘ میرا اس سے یہ سوال ہے کہ جب تم عورت پر ہاتھ اٹھاتے ہو تو تمہاری غیرت کہاں جا سوتی ہے؟؟؟ کیا تمہیں تمہارا مذہب یہ سکھاتا ہے کہ عورت پر ہاتھ اٹھاؤ۔اور اس کو مار دو۔یا یہ تمہاری گند زہنی کا نتیجہ ہے۔
دنیا کے ہر مذہب کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو ایک چیز جس کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ وہ چیز ہے ’’غیرت‘‘۔ یہاں تک کے ہندوازم کی سب سے زیادہ مذہبی مانی جانے والیں کتابیں پوران، مہا بھارت اور رامائن کا بنیادی تعلیمی پہلو غیرت ہی ہے۔ مہا بھارت کے مطابق تاریخ انسانی کی سب سے بڑی جنگ جس میں آسمان سے خود دیوتاؤں نےنازل ہو کر حصہ لیا وہ بھی غیرت کی ہی جنگ تھی۔ اور رامائن میں ہندو ازم کے دیوتا وشنو کا اوتار رام اور اس کا بھائی لکشمن اپنی عزت کو بچانے کی خاطر بڑی طویل جدو جہد کرتے ہیں۔ یعنی ہندوازم میں ’’غیرت‘‘ کی اہمیت واضع ہے۔ اور موجودہ ہندوستان میں ہر سال مختلف مذاہب کی ہزاروں عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ جن میں سب سے زیادہ تعداد ہندو اور پھر سکھ عورتوں کی ہوتی ہے۔
یورپ اور امریکہ میں ہرچو تھی عورت کو بے وفائی یا ارگومنٹ کی وجہ سے اپنے شوہر یا بوائے فرینڈ کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے(وائس آف امریکہ۔جیو نیوز)جن میں بعض اوقات عورتیں مر بھی جاتی ہیں۔
دنیا میں یہ سب ہوتا ہے اور اس کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو کہ اس مسئلہ کا حق ہے۔ لیکن اگر کہیں کسی مسلمان ملک میں ایسا کوئی ایک آدھ کیس نظر آ جائے تو تمام کافر ملک مسلمانوں کے خلاف اکٹھے ہو کر ایک میڈیا مہم چلا دیتے ہیں۔
کہیں مسلمانوں کے مظلام کے پمفلٹ چھپوائے جاتے ہیں۔ کہیں اسکولوں میں بچوں کو من گھڑت قصے سنائے جاتے ہیں۔ نیوز چینلز پر ٹاک شو کیے جاتے ہیں۔ اور مسلمانوں کے عورتوں پر مظالم کی فلمیں بنائی جاتی ہے۔اور اس میں پوچھا جاتا ہے کہ ‘‘اپنی لڑکی کو تم نے مار دیا۔ بتاؤ تمہاری غیرت کہاں ہے‘‘ میرا اس سے یہ سوال ہے کہ جب تم عورت پر ہاتھ اٹھاتے ہو تو تمہاری غیرت کہاں جا سوتی ہے؟؟؟ کیا تمہیں تمہارا مذہب یہ سکھاتا ہے کہ عورت پر ہاتھ اٹھاؤ۔اور اس کو مار دو۔یا یہ تمہاری گند زہنی کا نتیجہ ہے۔
جنگل کا الیکشن
جوں جوں جنگل میں الیکشن کے دن قریب آ رہے تھے اور تمام لیڈر جانور زیادہ تر باتھ روم میں گھسے اپنے دانتوں سے خون کے داغ صاف کرتے نظر آتے۔ اور بار بار اپنے نوکیلے دانوں کے لیے بنائے گئے سیاہ خول کو آزمایا جا رہا تھا کہ کہیں بھرے جلسے میں اتر کر لوگوں کو ان کی خوفناک شکل دکھائی نہ دے جائے۔اور دوستوں سے مشورے بھی ہو رہے تھے کہ کیسے دشمن لیڈر جانور کے دانتوں پر چڑھا خول گرا کر اس کی خوفناک صورت کو دوسرے کے سامنے لایا جاسکے۔اور اس سوچ میں غرق بھیڑیا یہ سوچ رہا تھا کہ کیسے برسر اقتدار ریچھ کے ساتھ اپنے اقتدار کا باقی وقت بھی پورا کرے۔ اور آئندہ اقتدار میں اپنا حصہ بھی بنایا جا سکے۔ وہ ریچھ کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ریچھ نے پھر صوبایت کا نعرہ لگا کر اقتدار میں ایک بڑھا حصہ حاصل کر لینا ہے اور لومڑوں نے تو اپنا اتحاد بنا کر پہلے ہی اپنے لیے اقتدار میں جگہ مخصوص کر لی تھی۔ اور بوڑھے گدھ سے بھی یہی امید تھی کہ وہ مذہب کا جھنڈا اٹھا کر پھر سے اپنی سیٹیں لے جائے گا۔ اور لگڑ بھگا تو ہمیشہ ہی ’میرے ہم زبان مظلوم‘ کا نعرہ لگا کر ہر بار کی طرح اس بار بھی اقتدار میں اپنی جگہ پکی کر لے گا تو آخر بھیڑے کے پاس کونسا تیر بچ جاتا ہے۔آخر اس کے دماغ میں ایک خیال آیا اور اسے بے اختیار خوش کر گیا۔ؔ’’مجھے ان سب لوگوں کے عذر ہی استعمال کرنے ہیں‘‘ اپنے خیال کو عملی شکل دینے کے لیے بھیڑے نے تمام جانوروں کو اکھٹا کر کے ایک جلسہ منعقد کیا جس میں تمام جانوروں کو بلایا گیا۔ ریچھ ، لومڑ، گدھ اور لگڑ بھگا بھی بھیڑے کے جلسے کی سن گن لینے وہاں خفیہ طور پر پہنچ گئے۔ بھیڑیے نے اپنی تقریر شروع کرتے ہی لگڑ بھگے کی برائیاں کرنا شروع کر دی۔ اس پر لگڑ بھگے کو غصہ آگیااور وہ بھی سامنے آ کر نا صرف بھیڑے بلکہ دوسرے لیڈر جانوروں کی برائیاں کرنے لگا۔ہجوم میں سب سے بڑا جھنڈ گدھوں کا تھا۔ توبھیڑیے کے کہنے پر سرمئی رنگ والے سارے گدھے اس کے پیچھے کھڑے ہو کر اس کی حمایت میں نعرے لگانے لگے۔ جب کہ سرمئی مائل براؤن رنگ والے بھی اپنے رنگ کی مناسبت سے ریچھ کے پیچھے جا کھڑے ہوئے۔ اپنی زبان کو بہترین سمجھے والے گدھے زبان کا نعرہ لگانے والے لگڑبھگے کے پیچھے جا کھڑے ہوئے۔جب کہ جذباتی گدھے ان ساری چیزوں سے بے نیاز مذہب کا جھنڈہ اٹھائے گدھے کی حمایت میں جا کھڑے ہوئے۔ ہجموم میں سے تمام گدھے کسی نہ کسی چال میں آ ہی گئے تھے۔ لومڑیوں نے ہمیشہ کی طرح اپنے ووٹ بیچنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ جب کہ برادری دار جانور اپنی برادر ی کے جانور کو ووٹ جانے کا سوچ چکے تھے۔
اور معصوم بھیڑوں کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا اس لیے وہ بیچاری سوچ میں ڈوبی اپنے غولوں میں لوٹ گئیں۔
۔۔۔۔۔*****۔۔۔۔۔
یہ جنگل کا ایک تاریک کونا ہے جہاں پر ایک دائرے میں کچھ شدید زخمی گدھوں اور بھیڑوں کے ساتھ چند دوسرے زخمی جانوربھی پڑے ہوئے تھے۔ جب کہ ان کے زخموں پر کچھ درندے منہ لگائے ان کا خون پی رہے تھے۔ ایک آہٹ سی ہونے پر سب درندوں کے اپنے منہ اٹھایا ’’ارے یہ تو زخمی جانوروں کے لیڈران تھے جن کے نوکیلے دانتوں سے خول اتار چکے تھے اور اب ان کے خوفناک دانت اور منہ خون سے رنگے ہوئے تھے۔
دراصل الیکشن کے نتائج حسب توقع آئے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار ریچھ کی جگہ بھیڑے نے لے لی تھی۔ باقی سب کچھ معمولی سی تبدیلی کے ساتھ پہلے جیسا ہی تھا۔ جس پر بھیڑے نے سب کو شکار کی دعوت دی ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔*****۔۔۔۔۔
اور معصوم بھیڑوں کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا اس لیے وہ بیچاری سوچ میں ڈوبی اپنے غولوں میں لوٹ گئیں۔
۔۔۔۔۔*****۔۔۔۔۔
یہ جنگل کا ایک تاریک کونا ہے جہاں پر ایک دائرے میں کچھ شدید زخمی گدھوں اور بھیڑوں کے ساتھ چند دوسرے زخمی جانوربھی پڑے ہوئے تھے۔ جب کہ ان کے زخموں پر کچھ درندے منہ لگائے ان کا خون پی رہے تھے۔ ایک آہٹ سی ہونے پر سب درندوں کے اپنے منہ اٹھایا ’’ارے یہ تو زخمی جانوروں کے لیڈران تھے جن کے نوکیلے دانتوں سے خول اتار چکے تھے اور اب ان کے خوفناک دانت اور منہ خون سے رنگے ہوئے تھے۔
دراصل الیکشن کے نتائج حسب توقع آئے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار ریچھ کی جگہ بھیڑے نے لے لی تھی۔ باقی سب کچھ معمولی سی تبدیلی کے ساتھ پہلے جیسا ہی تھا۔ جس پر بھیڑے نے سب کو شکار کی دعوت دی ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔*****۔۔۔۔۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
